خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 19 واں اجلاس گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اجلاس کے ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی غور و خوص کے بعد بعض کی منظور دی گئی۔
سیکرٹری قانون مسعود احمد، سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی شاہ محمود، سیکرٹری  انڈسٹری ثاقب رضا اور بورڈ کے دیگر اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو گزشتہ بورڈ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کے پی ٹیوٹا ریگولیشز 2020 میں ترامیم سمیت دیگر تمام فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ بورڈ اجلاس میں خیبر پختونخواہ سسٹم آف ٹیکنکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے تحت چلنے والے باقی ماندہ 17  ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کے پی ٹیوٹا کی تحویل میں دینے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ کے پی ٹیوٹا میں مختلف کیڈر کے تحت بھرتی کیے گئے عملے کی مستقلی اور ضم اضلاع میں نئی آسامیوں کی تخلیق سے متعلق ایجنڈا آئٹمز پر غور و خوص کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ صنعت اور خزانہ سمیت تمام متعلقہ محکمے آپس میں مل بیٹھ کر معاملات طے کر کے 15 دن کے اندر معاملہ حتمی منظوری کے لیے پیش کریں۔ مزید  برآں کے پی ٹیوٹا کے لیے مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن  کمیٹی کی تشکیل کی بھی  منظوری دی گئی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ٹیکنیکل تعلیم کے فروغ کے لیے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے جس کا مقصد صوبے میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں قائم ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس کو عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔