وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے عوام کو صحت کارڈ پلس کے تحت فری علاج معالجے کی سہولیات کو مقامی سطح پر یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو صوبے کے باقی ماندہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو بھی صحت کارڈ میں شامل کرنے جبکہ دوسرے مرحلے میں منتخب تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو سکیم میں شامل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت کے حکام کو صحت کارڈ میں شامل تمام ہسپتالوں کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ہسپتال عوامی خدمت میں کوتاہی کا مرتکب ہو، اسے صحت کارڈ سے فوری طور پر نکالا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کارڈ جس مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہے اس کے سو فیصد نتائج حاصل ہونے چاہئیں۔ یہ ہدایات انہوں نے جمعرات کے روز صحت کارڈ پلس سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ صوبائی وزیر برائے صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف ، سیکرٹری صحت عامر سلطان ترین، پراجیکٹ ڈائریکٹرڈاکٹر ریاض تنولی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صحت کارڈ کے تحت خرچ کی گئی رقم کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران صحت کارڈ پلس کیلئے مختص رقم کا سو فیصد علاج معالجے پر خرچ کیا جا چکا ہے جبکہ اسی سال تقریباًآٹھ لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ اب تک دو لاکھ چھ ہزار سے زائد گائنی کیسز اور ایک لاکھ سے زائد دل کے مریضوں کا علاج کیا گیا۔ 63 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کا علاج کیا گیا جبکہ 97 کڈنی ٹرانسپلانٹ اور 23 لیور ٹرانسپلانٹ کے کیسز کئے گئے ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صحت کارڈ پلس سکیم کوباضابطہ قانونی تحفظ دینے کیلئے قانون بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ صحت کارڈ کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔رواں بجٹ میں صحت کارڈ پلس میں مزید بیماریوں کے علاج کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے صحت کارڈ پلس کے تحت علاج معالجے کے نظام کو مزید شفاف بنانے کیلئے پینل میں شامل ہسپتالوں کا جائزہ لینے اور ان کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کرنے کیلئے بھی اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے اورکہا ہے کہ صحت کارڈ پلس اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہے جس کو وقت کے ساتھ ساتھ مزید جامع بنایا جائے گا۔