وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے حالیہ مون سون بارشوں کے باعث صوبے میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے متعلقہ صوبائی اداروں کے اقدامات اور ریلیف سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اُن کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق متاثرین کے نقصانات کے ازالہ کیلئے بلا تاخیر مالی معاونت کی فراہمی اور اُن کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے ٹانک سمیت سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں میںصورتحال معمول پر آنے تک میڈیکل کیمپس برقرار رکھنے اور متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض سے بچاﺅ کیلئے باقاعدگی سے اسپرے وغیرہ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔وہ بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں سیلاب کی صورتحال سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ صوبائی وزیر برائے ریلیف اقبال وزیر، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال ، نقصانات اور ریلیف سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اُن کو ریلیف کی فراہمی کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو صوبہ بھر بشمول ضم اضلاع کے حساس علاقوں کو مستقبل میں سیلاب کے نقصانات سے بچانے کے لیے باضابطہ پلان تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے اور واضح کیا کہ پلان میں دیرپا حفاظتی/ترقیاتی اقدامات کے لیے ترجیحات کا تعین کیا جائے اور پلان کے تحت کم مدتی،وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کیے جائیں۔ صوبائی حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔اُنہوںنے مون سون بارشوں کے ممکنہ دوسرے اسپیل کے دوران بھی تمام متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کو ہمہ وقت الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔