وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے نے متعلقہ حکام کو نیو پشاور ویلی منصوبے پر مقررہ ٹائم لائینز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لینڈ شئیرنگ فارمولے کے تحت منصوبے کے لئے زمین کے حصول کے سلسلے میں زمین مالکان کو اسی مہینے کی 25 تاریخ تک Intimation Letters کے باضابطہ اجراء کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ منصوبے پر عملی کا کام باقاعدہ آغاز کیا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ منصوبے کے مقام پر پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سب آفس کے قیام، پولیس پوسٹ کے قیام اور پولیس عملے کی تعیناتی، اراضی کے حصول سے متعلق معاملات کی بروقت انجام دہی کے لئے درکار ریونیو عملے کی تعیناتی اور ہاوسنگ اسکیم کے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لئے پی سی ون کی جلد تیاری اور منظوری کے لئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
وہ گزشتہ روز نیو پشاور ویلی سٹی منصوبے سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور مزید پیشرفت کے لئے متعدد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کو منصوبے پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس میگا ہاوسنگ اسکیم کے لئے اب تک 8000 کنال زمین کو کلئیر کردیا گیا ہے جبکہ پی ڈی اے کے بورڈ اجلاس میں منصوبے کے حتمی ماسٹر پلان کی باضابطہ منظوری دیدی گئی ہےجس کے مطابق یہ ہاﺅسنگ اسکیم ایک لاکھ چھ ہزار چار سو کنال وسیع اراضی پر قائم کی جائے گی جس میں سے 41 فیصد رقبہ رہائشی پلاٹس اور اپارٹمنٹس پر مشتمل ہو گا جبکہ کل رقبے کا 28 فیصد سڑکوں کی تعمیر،16 فیصد رقبے پر پارکس اور اوپن سپیسز،7 فیصد رقبے پر سرکاری عمارات جبکہ 5 فیصد رقبہ کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔