وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بنیادی مراکز صحت کی فعالی کے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 ارب روپے کی لاگت سے ایک ہزار سے زائد بنیادی مراکز صحت کو تزئین و آرائش کے زریعے فعال بنایا جارہا ہے۔ چھ سو سے زائد مراکز صحت میں تزئین و آرائش سمیت ضروری سامان و آلات کی فراہمی مکمل کرکے فعال بنایا گیا ہے۔ پیرنٹ ٹیچر کونسل کی طرز پر بنائی گئی پرائمری کئیر مینجمنٹ کمیٹیوں کے زریعے فی مرکز صحت پانچ سے پندرہ لاکھ روپے دیے گئے جس سے تزئین و آرائش سمیت تمام طبی ضروریات پوری کی گئیں،لیبر رومز کیلئے ضروری اشیا کی فراہمی سمیت، واش رومز کی تعمیر، ڈینٹل او پی ڈی کیلئے سامان کی خریداری اور ادویات کی فراہمی کیساتھ ساتھ دیگر ضروریات پوری کی گئیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر صحت نے ریگی رورل ہیلتھ سنٹر میں جدید خطوط پر استوار گائنی/لیبر روم کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ طاہر اورکزئی، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی اور چیف ایچ آیس آر یو ڈاکٹر اکرام اللہ بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ کمیٹیوں کو مراکز صحت میں درکار ضروریات پوری کرنے کیلئے معاشی اختیارات دیے گئے۔ میڈیکل آفیسر کی سربراہی میں، سٹاف اور اہل علاقہ کی ذمہ داری سے ان کمیٹیوں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ ان کمیٹیوں نے اپنی ضروریات کی نشاندہی اور فراہم کردہ بجٹ میں خود اپنی ضروریات مارکیٹ سے پوری کیں ۔لیبر رومز کیلئے ضروری اشیا خرید کر اسے فعال بنایا گیا جس سے عوام کو گھر پر صحت سہولیات مہیا ہونگیں ۔ ان بنیادی مراکز کو اب صوبہ بھر میں صحت گھر کے نام سے ری برانڈ کیا جارہا ہے۔ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ اس اقدام سے نہ صرف لوکل او پی ڈی میں بہتری آئی بلکہ لوگوں کا سرکاری ہسپتالوں پر اعتماد بھی بحال ہوا۔ اب گھر کی دہلیز پر ذچہ بچہ کی جدیدسہولیات مہیا ہونگی ۔ آج کوئی جایے ان چھ سے زائد فعال مراکز کا حال دیکھیں اور او اس سے پہلے والی حالت کیساتھ تقابلہ کریں۔
یہ اگر سرکاری طریقے سے ہوتا تو فی مرکز صحت کروڑوں روپے خرچ ہوتے لیکن یہ کام ہم نے پانچ سے پندرہ لاکھ میں کرکے دکھایا۔