وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں پر واضح کردیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے سلسلے میں مقررکردہ ڈیڈ لائنز میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔لہٰذا محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اپنے اپنے محکموں کے تحت مقررہ ڈیڈ لائنز کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور مالی سال کے آخر تک جاری شدہ فنڈز کے سو فیصد استعمال کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔ مالی سال کے آخر تک جاری شدہ فنڈ لیپس ہونے کی صورت میں متعلقہ محکمے کا سیکرٹری ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی ہے کہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دیں اور اس سلسلے میں محکمہ منصوبہ بندی کے اجلاسوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے جبکہ ضرورت کی بنیاد پر ایسے نئے منصوبے بھی نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جائیں جن سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ مستفید ہوسکیں۔
وہ منگل کے روز ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں محکمہ ہائے صحت، ابتدائی و ثانوی تعلیم ، اعلیٰ تعلیم، مواصلات و تعمیرات، توانائی، آبپاشی، آبنوشی ، سیاحت و کھیل ، زراعت اور صنعت سمیت دیگر مختلف محکموں کے تحت صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ بعض ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ان منصوبوں پر آنے والے دنوں میں ٹھوس اور تسلی بخش پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ دنوں ان منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا اور ان منصوبوں پر متعلقہ محکمے کا سیکرٹری ان منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کرے گا۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ رواں ماہ کے آخر میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری کردہ فنڈز کے استعمال کا جائزہ لینے کے لئے بھی ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا اور فنڈز استعمال نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ سیکرٹری سے سخت باز پرس کی جائے گی اور بغیر کسی ٹھوس وجہ کے فنڈز استعمال نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ سیکرٹری کے خلاف کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ جن نئے منصوبوں کے زمینوں کی خریداری کے لئے فنڈز ڈپٹی کمشنر ز کو منتقل کئے گئے ہیں وہ فنڈز جلد سے جلد زمین مالکان کو ادا کئے جائیں تاکہ ان منصوبوں پر بلا تاخیر عملی کام کا آغاز کیا جاسکے۔ شہریوں کو ایک ہی چھت تلے تمام شہری خدمات کی فراہمی کے لئے سٹیزنز فسلیٹیشن سنٹرز کے منصوبے کو عوامی فلاح و بہبود کا ایک منصوبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر زمیں سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے لئے ایک ہفتے کے اندر اندر موزوں جگہوں کی نشاندہی کی جائے۔