خیبر پختونخواکے وزیر زراعت ولائیو سٹاک محب اللہ خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو رواں مالی سال تک مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پورے صوبے بشمول نئے ضم قبائلی اضلاع میں زراعت لائیوسٹاک فشریز واٹرمنجمنٹ سائل کنزرویشن ایگریکلچر انجینئرنگ کی ترقی اور فروغ کیلئے اربوں کے منصوبوں پر کام شروع کیا ہے جس سے نہ صرف ہماری معیشت بہتر ہوگی بلکہ زمیندار اور مویشی پال طبقہ بھی کافی مستفید ہوگا صوبے اور خاص کرنئے ضم شدہ اضلاع میں زرعی ترقی کے لئے موجودہ حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے اور اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ کسان اور مویشی پالوں کیلیے موجودہ حکومت نے بہترین منصوبے شروع کئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں محکمہ زراعت ولائیوسٹاک کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد اسرار، سپیشل سیکرٹری جنت گل، ایڈیشنل سیکرٹری محمد طاہر، چیف پلانگ آفیسر زراعت ولائیوسٹاک احمد سعید، متعلقہ ڈی جیز کے محکمہ کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت کو محکمہ میں جاری اور نئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس میں منظور شدہ سکیموں میں خیبر پختونخوا میں زمین کی زرخیزی کی نقشہ سازی، صوبہ میں بیجوں کی صنعت کا قیام، ٹیلی فارمنگ اور ڈیجیٹل سروس فلیٹ فارم کا قیام، خیبر پختونخوا میں باغبانی کے ذریعے آب و ہوا کے منفی اثرات کو کنٹرول کرنا، خیبر پختونخوا میں قابل زراعت بنجر زمین کی بحالی اور زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی، خیبر پختونخوا میں معیشت میں بہتری کے لئے شہد کی پیداوار کو فروغ دینا،صوبے میں کراس بریڈنگ کے زریعے مویشیوں کی جینیاتی بہتری، کمیونٹی ڈیری اور گوشت کی ترقی، کرائے پر بلڈنگ میں سول ویٹرنری ڈسپنسریوں کا قیام، ضلع مہمند میں زرعی ترقی، ضم شدہ علاقوں میں ماحولیاتی طور پر کنٹرولڈ پولٹری ہاؤسنگ سسٹم کا تعارف اور زراعت میں تبدیلی کا منصوبہ، زیتون اور ماہی گیری کے فروغ اور ضم شدہ علاقوں میں ویٹرنری سہولیات کے قیام پر تفصیل سے جائزہ لیاگیا۔