خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی دارلحکومت پشاور کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کیلئے ایک اہم قدم کے طور پر منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور منشیات فروشوں کے خلاف موثر کارروائیوں کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے حکمت عملی کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس حکمت عملی پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے تمام درکار وسائل فراہم کرے گی ۔یہ منظوری انہوں نے جمعرات کے روز منشیات کے خاتمے کے لئے تیار کی گئی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا ، انور زیب خان، بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، کمشنر پشاورریاض محسود، سی سی پی او پشاوراعجاز خان کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں منشیات فروشوں کو سخت سے سخت سزائیں دلانے کیلئے متعلقہ صوبائی قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ متعلقہ وفاقی قوانین میں بھی ترامیم کیلئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ ترامیم کے ذریعے منشیات فروشوں کو دی جانے والی قید کی سزا اور جرمانہ کی رقم کو بڑھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کو مذکورہ حکمت عملی کے مختلف پہلوﺅں اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پشاور کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے مرتب کی گئی حکمت عملی پر تین مرحلوں میں عمل درآمد کیا جائے گا ۔ پہلے مرحلے میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاﺅن اور نشے کے عادی افراد کو سڑکوں اور دیگر مقامات سے اُٹھاکربحالی سنٹر منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے نجی اور سرکاری شعبوں کے مختلف بحالی مراکز میں 1800 بستروں کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے کے تحت منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے اقدامات کے علاوہ منشیات فروشوں کے خلاف منظم کاروائیاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں منشیات کے عادی افراد کا علاج کرایا جائے گا ۔اس کے علاوہ نشے کے عادی افراد کا مکمل ڈیٹا بیس بھی قائم کیا جائے گا۔