خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد پشاور میں دو ارب روپے کی لاگت سے گیس پائپ لائن کی تنصیب سے مقامی صنعتوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل اسٹیٹ میں مزید دس ہزار لوگوں کو براہ راست روزگار فراہم ہو سکے گا ۔یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد پشاور میں گیس پائپ لائن کی افتتاحی تقریب کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر ، سینیٹر الیاس بلور ، خیبر پختونخوا اکنامک ڈیویلپمنٹ زون کے سربراہ فیض محمد، انڈسٹریل ایسوسی ایشن پشاور کے صدر زرک خان خٹک ، سینئر نائب صدر ایوب زکوڑی کے علاوہ ریسکیو1122کے اعلیٰ حکام اور مقامی صنعت کار بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے روز اول سے صوبے میں صنعتوں کی ترقی کیلئے مربوط بنیادوں پر حکومت عملی اپنا رکھی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے گیس کی فراہمی سے صنعت کاروں کے ساتھ کئے گئے اپنے ایک اور وعدے کو ایفا کر دیا ہے۔گیس کی فراہمی سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور یہاں پر مزید دس ہزار افراد کو روزگار کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبے کی معاشی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے پرائیویٹ سیکٹر کی مناسب رہنمائی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ نجی سیکٹر کو بھی ملکی مفاد میں اپنا بہترین کردار ادا کرنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ پشاور شہر کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعت کار مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کے ساتھ آئندہ تین ماہ میں تین ہزار افراد کو مقامی صنعتوں میں اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کرنے پر بھی خاطر خواہ توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے لوگوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ، یہاں کی صنعتوں کو ملک کی دیگر صنعتوں بلکہ بین الاقوامی سطح پر لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس صوبے کا مستقبل تجارت سے وابستہ ہے ،وسطی ایشیا اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینا نا گزیر ہے، ریونیو میں اضافے کے بغیر مطلوبہ ترقی کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ حکومت نے صوبے میں نئی صنعتوں کے قیام اور نئے کاروبار کے آغاز کیلئے شرائط کو آسان اور ایک جگہ پر مرکوز کر دیا ہے تاکہ نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کے نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے کیلئے پانچ ارب روپے کے بلا سود قرضے کی سکیم کا اجراء کیا ہے جس کے تحت قبائلی اضلاع میں سکیم کا آغاز ہو چکا ہے اور آئندہ ماہ سے صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس کو شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے کہا کہ بی آر ٹی ایک انقلابی پراجیکٹ ہے جس کی نہ صرف صوبے کے مرکزی شہر کے لوگوں کوضرورت تھی بلکہ اس کی تکمیل سے روزگار کے مواقع فراہم ہونے کے ساتھ پشاور میں سرمایہ بھی آئے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کیلئے بی آر ٹی پراجیکٹ کا ہونا ضروری ہے تو پشاور کے لوگوں کیلئے بھی جدید سفری سہولیات پر مشتمل پبلک ٹرانسپورٹ کا ہونا ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بی آر ٹی کی تکمیل میں تاخیر ہوئی جس پر عوام کو ہونے والی تکالیف پر ہم معذرت خواہ ہیں ، موجودہ حکومت اس کی جلد تکمیل کیلئے بھر پور نگرانی کر رہی ہے اور اس پراجیکٹ کی کامیابی کو یقینی بنائے گی۔بعد ازاں انہوں نے انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد میں کسی بھی ہنگامی صورحال سے نمٹنے کیلئے جدید آلات و سہولیات سے آراستہ ریسکیو1122ایمرجنسی سنٹرکا بھی افتتاح کیا۔