وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ لائیو سٹاک نے صوبے میں لائیوسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صوبے میں پولٹری، دودھ اور گوشت کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے ایک اہم قدم کے طور پر چیف منسٹر انٹگریٹڈ لائیوسٹاک ڈویلپمنٹ پروگرام تیارکرلیا ہے جس پر عمل درآمد جلد شروع کیا جا ئے گا۔ یہ پروگرام پانچ سالوں پر محیط ہو گا جس کے تحت صوبے میں ڈیری پیداوار کو تجارتی پیمانے پر فروغ دینے کیلئے قلیل المدتی ، وسط المدتی اور طویل المدتی منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ اس پروگرام پر عمل درآمد پر 67 ارب روپے تخمینہ لاگت آئے گی ۔
یہ بات بدھ کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ لائیوسٹاک کے ایک اجلاس میں بتائی گئی ۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری زراعت اسرار خان، سیکرٹری منصوبہ بندی شاہ محمود، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک عالمزیب کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو چیف منسٹر انٹگریٹڈ لائیوسٹاک ڈویلپمنٹ پروگرام کے مختلف پہلوﺅں پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت لائیوسٹاک کے 10 مختلف شعبوں میں قلیل المدتی ، وسط المدتی اور طویل المدتی منصوبے تجویز کئے گئے ہیں ۔ ان اقدامات میں پولٹری، گوشت اور دودھ کی پیداوار کو بڑھانے کے علاوہ جانوروں میںمنہ کھر کی بیماریوں کے موثر تدارک کیلئے اقدامات بھی شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بھی ڈیری اور پولٹری پیداوار میں اضافے کیلئے خصوصی اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ مزید بتایا گیا کہ ان قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں کے تحت پولٹری اور ڈیری پیداوار میں اضافے کیلئے مختلف قسم کے فارمز اور ماڈل میٹ آوٹ لیٹس اور ماڈل پولٹری میٹ آوٹ لیٹس کا قیام، موجودہ پولڑی فارمز کی بحالی ، کمرشل ڈیری فارمزکا قیام، ملک کلیکشن اینڈ مارکیٹنگ سنٹرز کے قیام کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیںجبکہ جانوروں کو منہ کھر کی بیماریوں سے بچانے کیلئے ویکسنیشن پروگرام کے اجراءکے علاوہ ایف ایم ڈی فری زونز بھی قائم کئے جائیں گے ۔ مزید بتایا گیا کہ ان اقدامات کے علاوہ محکمہ لائیوسٹاک کی استعدار کار میں اضافے کیلئے بھی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔