موجودہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو مزید مستحکم کرکے لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لئے پرائمری، سیکنڈری اور تدریسی ہسپتالوں کے شعبوں میں اربوں روپے مالیت کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور ان منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائینز کے مطابق پیشرفت یقینی بنانے کے لئے ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت اقدامات جاری ہیں تاکہ ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے اور عوام بلا تاخیر ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ صحت کے ایک اجلاس میں بتائی گئی جس میں صحت کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، سیکرٹری صحت امتیاز حسین شاہ، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز محمد اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو صوبہ بھر میں چھوٹے بڑے مراکز صحت میں علاج معالجے کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے شروع کئے گئے منصوبوں اور دیگر اقدامات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پرائمری ہیلتھ کئیر کے شعبے میں صوبہ بھر کے بنیادی مراکز صحت کو مستحکم کرنے اور 200 بنیادی مراکز صحت کو دن میں چوبیس گھنٹے فعال رکھنے کے لئے ایک بڑے منصوبے پر کام جاری ہے۔ اسی طرح صوبہ بھر کے تمام دیہی مراکز صحت کی بحالی اور پچاس دیہی مراکز صحت کو دن میں چوبیس گھنٹے فعال رکھنے کے لئے بھی ایک منصوبے پر کام جاری ہے جن کے تحت ان مراکز صحت کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے علاوہ وہاں پر مستقل بنیادوں پر طبی عملے کی تعیناتی، تمام ضروری ادویات کی فراہمی، طبی آلات کی دستیابی اور دیگر متعلقہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے شعبے میں صوبے کے 25 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری پر کام جاری ہے جس کے تحت ان ہسپتالوں کی انفراسٹرکچر کی تجدید کاری ، اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سمیت دیگر اضافی طبی عملے کی تعیناتی اور طبی آلات اور ادویات کی فراہمی کے علاوہ ان ہسپتالوں میں ڈائگناسٹک سروسز کی آوٹ سورسنگ، ہسپتالوں کی موجودہ عمارتوں میں آئی سی یوز، برن یونٹس، ڈایئلاسز یونٹس، فیزیو تھراپی یونٹس وغیرہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اسی طرح صوبے کے پسماندہ اضلاع میں بارہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی آوٹ سورسنگ پر بھی کام جاری ہے جسے نہ صرف دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات مقامی سطح پر دستیاب ہونگی بلکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہونگے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں تدریسی شعبے کے ہسپتالوں کو بھی مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور اگلے سال جون تک اس شعبے میں دس اہم منصوبے مکمل کیے جائیں گے جن میں فاؤنٹین ہاوس پشاور، باچاخان میڈیکل کالج مردان فیز ٹو، بنوں میڈیکل کالج فیز ٹو، انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ اینڈ میڈیکل ٹیکنالوجی پشاور، بلڈ ٹرانسفیوژن پراجیکٹ فیز ٹو، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آرتھوپیڈک اینڈ سپائن سرجری بلاک کی تعمیر اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔