مشیر وزیر اعلیٰ برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بجٹ کو جس متوازن طریقے سے پیش کیا اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ چوتھے سال میں 1118 ارب روپے کے سالانہ بجٹ میں 371 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔53 ارب روپے ریونیو کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد اگلے سال کے لئے73ارب روپے کا ہدف مقرر کردیا گیا ہے۔لینڈ اور پروفیشنل ٹیکس کی شرح صفر اور کار رجسٹریشن کی فیس ایک روپے مقرر کردی گئی ہے۔ غیر منقولہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس کی 31 دسمبر تک ادائیگی پر 35 فیصد رعایت دی گئی ہے۔صوبے کے تمام افراد کے لئے صحت کارڈ سکیم میں 23 ارب روپے کا فنڈ ز مختص کیا گیا ہے۔ جولائی سے صوبے میں پراپرٹی ٹیکس اورگاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہو جانے سے عوام کو گھر کی دہلیز پر ٹیکس جمع کرنے کی سہولت میسر آجائیگی۔ صوبائی حکومت ٹیکس دہندگان کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانے کے لئے نارکوٹکس کنٹرول کو مذید فعال کیا جارہا ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول میں افراد ی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سٹاف کی تعیناتی کی جارہی ہے۔ محاصل کی بروقت وصولی کے لئے محکمہ ایکسائز میں تمام اضلاع کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے ماہانہ بنیادوں پرنگرانی کا نظام وضع کیا جارہا ہے۔بجٹ میں خیبر پختونخوا میں گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک روپے تک محدود کردیا گیا ہے۔ اپنے صوبے کی گاڑیوں کی اپنے صوبے میں رجسٹریشن کے لئے خصوصی مراعات دی جارہی ہے۔ یونیورسل نمبر متعارف کیا جارہا ہے۔ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا شہری اپنے صوبے کی نمبر پلیٹ پر فخر کریگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لکی مروت اور کرک اضلاع کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مشیر وزیر اعلیٰ برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خلیق الرحمن نے گذشتہ روز ضلع لکی مروت اور کرک کا اچانک دورہ کیا انہوں نے لکی مروت اور کرک کے دفاتر میں محکمہ ایکسائز کا ریکارڈ اور محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ ایکسائز و ٹیکسیشن آفیسر لکی مروت اصغر وزیر اور ضلع کرک کے انسپکٹر طارق آفریدی نے اپنے اپنے اضلاع کے حوالے سے مشیر ایکسائز و ٹیکسیشن کو تفصیلی بریفنگ دی اور محاصل کے بارے میں ان کو آگاہ کیا۔