وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے محکمہ جنگلات اور ماحولیات کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس مقصد کے لئے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی تحت موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں فارسٹ چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور فارسٹ گارڈز کی استعداد کار کو بڑھانے پر جلد عملی کام شروع کیا جائے تاکہ صوبے میں جنگلات اور جنگلات حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی ہے کہ صوبے کے منفرد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے موزوں مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں پر نجی شعبے کے تحت گیم ریزروز کے قیام کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور اس مقصد کے لئے نجی سرمایہ کاری کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے۔
یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں خیبرپختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ صوبائی وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ، اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، سیکرٹری جنگلات اسلام زیب اور بورڈ کے دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور جنگلی حیات کے شعبے میں ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے بورڈ کے ریسرچ کمیٹی کے علاوہ مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی فنڈ کے قیام کے لئے معاملہ صوبائی کابینہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کا کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے مقامی کمیونٹی کی زیادہ سے زیادہ انگیج کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ صوبے میں جنگلی حیات اور دیگر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے سلسلے میں وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی بورڈ کے کردار کو مزید موثر بنانے کے لئے اس کی تشکیل نو کرکے اس میں زیادہ سے زیادہ متعلقہ شعبے کے ماہرین اور تحقیق کاروں کو شامل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ بورڈ اجلاس کے انعقاد میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کے تحت قائم تمام بورڈز کے اجلاس ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں۔