وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے میں رواں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی ) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اورمالی سال2021-22 کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا ۔اجلاس کو آئندہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے تجویز کیے گئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری شکیل قادر، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم داود خان، سیکرٹری مواصلات اعجاز انصاری، سیکرٹری آبپاشی طاہر اورکزئی کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2020-21کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اربوں روپے مالیت کے کل 139 منصوبے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں جن کے لئے اب تک 76 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی جا چکی ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور اُمید ہے کہ مالی سال کے آخر تک جاری شدہ فنڈز کا سو فیصد خرچ کیا جائے گا۔ پی ایس ڈی پی 2021-22 میں شامل کرنے کے لیے مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف شعبہ جات میں کل 40 منصوبے تجویز کیے گئے ہیں جن میں 360 کلو میٹر طویل پشاور ڈی آئی خان موٹر وے، دیر موٹر وے، چشمہ رائٹ بنک کنال، پنجکوڑہ ریور لفٹ رائٹ بنک کنال، ملکوح، کوشت اور کاغ لشت ایریگیشن سکیم کے علاوہ دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مجوزہ منصوبوں کی آئندہ پی ایس ڈی پی میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوںکے پی سی ونز جلد ازجلد تیار کئے جائیں اور متعلقہ فورم سے ان کی بروقت منظوری کو یقینی بنایا جائے۔