محکمہ بلدیات کی خدمات کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی جاچکی ہے، قبائلی اضلاع کے عوام میں بلدیات اور معلومات تک رسائی بارے آگاہی ریڈیو پروگرامز کے زریعے لائی جارہی ہے، موجودہ دور میں معلومات تک رسائی ناگزیر ہے، قبائلی اضلاع میں بہتر حکمرانی کیلئے عوام میں آگاہی اور شعور اُجاگر کرنا لازمی ہے، آر ٹی آئی قانون کے تحت صوبے میں شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو تقویت ملی ہے ، محکمہ بلدیات اور دیہی ترقی اور رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے زیرانتظام پشاور کے نجی ہوٹل میں قبائلی اضلاع تک محکمہ بلدیات کی توسیع، خدمات کی فراہمی اور معلومات تک رسائی بارے آگاہی پر مبنی  یو نوے سفر  کے نام سے ریڈیو پروجیکٹ کی لانچنگ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں محکمہ بلدیات کے سیکرٹری شکیل احمد میاں مہمان خصوصی تھے جبکہ دیگر شرکا میں کمشنر آرٹی آئی ریاض داودزئی، ہیلتھ فاونڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر جانباز آفریدی جی آئی زی اور پروجیکٹ عملے کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون جی آئی زی کی تکنیکی معاونت سے محکمہ بلدیات کے زیر انتظام یہ ریڈیو پروجیکٹ فاٹا ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ ہے جسے جرمنی کے وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی بی ایم زیڈ اور یورپی یونین کے مشترکہ تعاون سے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائینسز کے توسط سے نافذ کیا جارہاہے، جس کے لئے قبائلی اضلاع سے رپورٹرز و دیگر عملے کی طعیناتی عمل میں لائی جاچکی ہے۔
لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں کا کہنا تھا کہ جی آئی زی نہ صرف اس پروجیکٹ میں بلکہ دیگر امور میں پچھلے دس سال سے محکمہ بلدیات کیساتھ معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد نئے ضم شدہ اضلاع میں محکمہ بلدیات کی خدمات، کورونا ایس او پیز اور تدارک بارے ریڈیو پروگرامز کے زریعے آگاہی پھیلانا ہے تاکہ ضم شدہ اضلاع میں ترقی کا عمل جلد پروان چڑھے اور ان علاقوں کو ملک کے دیگر بندوبستی علاقوں کے مدمقابل لایا جائے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کیلئے بلدیات اور معلومات تک رسائی سمیت دیگر صوبائی قوانین بالکل نئے ہیں جن کی پاسداری اور صحیح استعمال بارے ان ریڈیو پروگراموں میں بتایا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کے زریعے قبائلی عوام کو قومی دھارے میں لانے کا احساس دلایا جائے گا اور انہیں ان کی بنیادی آئینی حقوق پر آگاہی دی جائیگی۔