خیبرپختونخوا میں بے گھر افراد، مزدوروں اور دیگر ضرورت مند لوگوں کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے اور انکے بہتر انتظام و انصرام کے لیے صوبائی حکومت اور پاکستان بیت المال کے مابین معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ محمود خان نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گاہوں کے قیام کا مقصد بے گھر افراد ، اپنے گھر سے دور مسافروں، بے روزگار لوگوں، مزدوروں اور دیگر ضرورت مند افراد کو رات کے قیام کی جگہ اور متعلقہ سہولیات فراہم کرنا ہے انہوں نے کہا کہ پناہ گاہوں کا قیام دراصل ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کے قیام کی طرف ایک عملی قدم ہے۔ صوبائی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے قیام کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کر رہی ہے۔دستخط شدہ معاہدے کے تحت صوبے میں 8 نئی پناہ گاہیں قائم کی جائیں گی جن میں سے دو پناہ گاہیں صوبائی دارالحکومت پشاور جبکہ ایک ایک پناہ گاہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں قائم کی جائے گی۔ رواں سال 15 اپریل تک یہ پناہ گاہیں قائم کر لی جائیں گی۔ ان پناہ گاہوں پر مجموعی طور پر 680 ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ ان کے قیام کے لیے آدھا فنڈ صوبائی حکومت اور آدھا فنڈ پاکستان بیت المال فراہم کرے گا۔ ہر پناہ گاہ میں بیک وقت 100 افراد کے قیام کی گنجائش ہوگی اور پنا ہ گاہوں میں روانہ کی بنیاد پر کم سے کم 400 افراد کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے گا جبکہ ان پناہ گاہوں سے مستفید ہونے والے افراد کا ریکارڈ بر قرار رکھنے اور ہر پناہ گاہ کو موثر انداز میں چلانے کیلئے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم بھی تیار کیا جائے گا۔