وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ ملک میں تمام مکاتب فکر کو نظریاتی و فکری آزادی حاصل ہے پاکستان بنانے کا واحد مقصد بھی یہی تھا کہ یہاں پر مذہبی، علاقائی و لسانی تفریق سے ہٹ کر لوگ زندگی بسر کریں۔ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے بین المذاھب ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا متحرک ہے۔ ملکی ترقی میں تمام مذہبی گروہوں کی قربانیاں قابل ستائش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے کوہاٹ میں پہلی بین المذاھب ہم آہنگی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کیا۔
معاون خصوصی کامران بنگش کے ہمراہ صوبائی مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش، معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر ذادہ اور ممبر صوبائی اسمبلی ولسن وزیر نے بھی پہلی بین المذاہب کرسمس تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر معاون خصوصی اطلاعات و اعلی تعلیم کامران خان بنگش، ضیاء اللہ بنگش، وزیر زادہ اور ایم پی اے ولسن وزیر نے کرسمس کیک بھی کاٹا۔ معاون خصوصی کامران بنگش نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان میں آئین نے تمام شہریوں کو مذہبی، تعلیمی و دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی بلا تفریق دینے کی ضمانت دی ہے۔ حکومت کے لیے مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، کیلاش سمیت دیگر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی برادری کو کرسمس تقریب کے موقع پر مبارکباد دیتا ہوں۔

معاون وزیراعلی کامران بنگش نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے کیلاش برادری کے لیے خصوصی میرج ایکٹ کے حوالے سے قانون سازی کی ہے جبکہ دیگر مذہبی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔