وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ ایکسائز ، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول کی طرف سے اب تک کی پیش رفت اور محکمہ کے تحت جاری اصلاحاتی اقدامات پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ حکام کو جاری اصلاحاتی اقدامات اور سرگرمیوں کی بروقت تکمیل کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز کا تعین کرنے اور ٹائم لائنز کے مطا بق پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔ وزیراعلیٰ نے منشیات کے خلاف اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو خیبرپختونخوا کنٹرول آف نارکوٹیکس قانون2019 کے تحت تیار کئے گئے رولز کے مسودہ کی جانچ پڑتال کا عمل جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ محکمہ کے تحت خدمات کی فراہمی کے عمل میں پیچیدگیوں کے خاتمے اور جدید رجحانات کے فروغ کے ذریعے محکمہ کے اُمور میں شفافیت لانا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا حتمی ہدف ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں محکمہ ایکسائز ، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کنٹرول کی کارکردگی کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی غزن جمال کے علاوہ سیکرٹری ایکسائز اسلام زیب،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ظفر علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات پر کام تیز کرنے جبکہ نشے کے عادی افراد کی بحالی کیلئے بھی اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ کو محکمہ کی کارکردگی کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مختلف ٹیکسز کی مد میں مجموعی طور پر2917.144 ملین روپے اکھٹے کئے گئے تھے جبکہ رواں مالی سال کیلئے مقرر شدہ چار ہزار ملین روپے کے مجموعی ہدف کے تعاقب میں پہلے پانچ ماہ کے دوران 1335.26 ملین روپے اکھٹے کئے گئے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ دو سالوں کے دوران 2288 کلوگرام چرس، 272 کلوگرام ہیروئن، 318 کلو گرام افیون ، 9.48 کلوگرام آئس اور 24 ہزار497 لیٹر شراب پکڑی گئی جبکہ 355 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔ جولائی2020 ءسے اب تک مجموعی طور پر151 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ خیبرپختونخوا نارکوٹیکس کنٹرول 2019 ءکے نفاذ کے بعد محکمے کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے ۔ اجلاس کو محکمہ کے تحت جاری اصلاحاتی اقدامات پر پیشرفت کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کی بنیاد پر پشاور میں سروے شروع ہے جو رواں ماہ کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ آئندہ سال فروری کے آخر تک پشاور میں اس سسٹم کا باضابطہ اجراءممکن بنایا جائے گا۔اسی طرح ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں جی آئی ایس بیسڈ سروے پر کام اکتوبر 2020 ءسے شروع ہے، ضلع مردان میں سروے کیلئے منصوبہ دوبارہ مشتہر کیا گیا ہے جبکہ کوہاٹ اور بنوں کیلئے منصوبے کا پی سی ون منظور کیا جا چکا ہے ۔ اس سسٹم کے تحت پراپرٹی ٹیکس کیلئے ای ادائیگیوں ، آن لائن پراپرٹی ٹیکس چالان کی سہولت ، اُردو اور انگلش دونوں ورژن میں سیلف اسسٹمنٹ کیلکولیٹر اور چالان کی آن لائن تصدیق جیسی سہولیات میسر ہوں گی ۔ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے مختلف بینکوں کے علاوہ ایزی پیسہ ، جاز کیش، یو پیسہ، اے ٹی ایم/ کریڈٹ کارڈ اور دیگر دستیاب آپشنز فراہم کی جائیں گی ۔ اجلاس کو محکمہ کی طرف سے آن لائن ادائیگیوں کیلئے تیار کی گئی ڈیجیٹل ایپ کے مختلف فیچرز سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنا نارکوٹیکس کنٹرول ایکٹ بنایا ہے ۔ قانون کے تحت نارکوٹیکس کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹھیک ٹھاک سزائیں رکھی گئی ہیں ۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے یونیورسل نمبرز متعار ف کرانے پر کام شروع ہے ۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں پانچ نارکوٹیکس پولیس سٹیشنز قائم کر دیئے گئے ہیں جبکہ ٹیکس فسلٹیشن فنانس ایکٹ 2020 ءکے تحت ٹیکس دہندگان کو متعدد ٹیکسز ز میں خاطر خواہ کمی کی سہولت دی گئی ہے۔