خیبرپختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام فنکاروں کیلئے انڈومنٹ فنڈ جاری کرنے کا عمل اخری مراحل میں ہے جس سے فنکاروں کو ان کی صحت، بچوں کی تعلیم و دیگر فلاح و بہبود میں کافی مدد ملیں گی اسکے علاوہ نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سنٹر سے اجازت مل جانے پر نشترحال پشاور میں صوبے کے فنکاروں کو تین مہینوں تک مفت اپنی سرگرمیاں منعقد کرنے کی اجازت دی جائیگی۔

ان خیالات کا اظہار وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزٸی نے پیر کے دن اپنے دفتر میں احتجاج کرنے والے خیبر پختونخوا کے فنکاروں کے نماٸندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکٹری سپورٹس و کلچر طارق اسلام، ڈاٸریکٹر کلچر شمع نعمت، نامور شاعر و سابقہ سٹیشن ڈاٸریکٹر ریڈیو پاکستان لاٸق زادہ لاٸق، کلچر جرنلسٹ احتشام طورو، ڈرامہ ارٹسٹ نجیبُ اللہ انجم، بشرہ فرح اور بختیار خٹک کے علاوہ دوسرے مختلف ٹی وی اور سٹیج شو کے فنکاروں نے شرکت کی۔ وفد نے اپنی مشکلات سے وزیر ثقافت و محنت شوکت یوسفزئی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی ،سٹیج اور ثقافتی پرگراموں پر پابندی کے باعث صوبے کے فنکار بے روزگاری کا شکار ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزٸی سے ٹی وی ،سٹیج اور ثقافتی پروگراموں پر پابندی ختم کرنے سمیت ان کیلئے خصوصی ریلیف پیکج دینے کا مطالبہ کیا۔

شوکت یوسفزٸی نے اس موقع پر کہا کہ وہ فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر مساٸل سلجھانے کے بجائے ان کو الجھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ کورونا جیسے قدرتی وبا سے ملک کے تمام طبقے متاثر ہوئے ہیں جسمیں فنکار برادری بھی شامل ہے جیسے محکمہ ثقافت بخوبی اگاہ ہے اور ان کے مشکلات کا احساس بھی ہے۔ایک سوال کے جواب میں صوباٸی وزیر نے کہا کہ فنکاروں کو ملنی والی تیس ہزار کے ریلیف کا پراجیکٹ ختم ہوا ہے مگر ان کے لئے انڈومنٹ فنڈ جاری کرنے کا عمل اخری مراحل میں ہے جس سے صوبے کے فنکار کافی حد تک مستفید ہو جائے گے۔ شوکت یوسفزٸی نے کہا کہ فنکار برادری کورونا کے دوسرے لہر کے پیش نظر جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کھلے میدانوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر احتجاجی کیمپ لگا نے والے فنکاروں کو اعتماد میں لینے اور ان سے بات کرنے کیلئے کمیٹی بھی بنائی گئی۔