وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں آکسیجن کی کمی سے مریضوں کی اموات کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر اندر واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلی نے صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز سے رابطہ کرکے انہیں ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز سے فوری طور پر واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کروانے کے احکامات جاری کیے۔ وزیر اعلی نے 48 گھنٹوں کے اندر واقعے کی تمام پہلوؤں سے صاف و شفاف تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ وقت میں رپورٹ پیش نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت اپنی طرف سے واقعے غیر جانبدار تحقیقات کروائے گی۔
واقعے کو انتہائی افسوسناک اور متعلقہ حکام کی طرف سے بہت بڑی غفلت کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو تعین کیا جائے گا اور جو بھی اس واقعے کے ذمہ دار قرار پائے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی رپورٹ پبلک کی جائے گی اور معاملات کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ درین اثنا وزیر اعلی نے اس افسوسناک واقعے میں جان بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ انہوں کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور یقین دلاتی ہے کہ جلد سے جلد واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔