حکومت خیبرپختونخوا کی انتھک کوششوں اور گورنر خیبرپختونخوا کی ذاتی دلچسپی کے باعث تاریخی تعلیمی ادارے ایڈورڈز کالج کی نہ صرف تاریخی ساکھ کی بحالی ہوئی ہے بلکہ انتظامی امور سے متعلق تمام تر مسائل کو بروقت اور خوش اسلوبی سے حل کیا گیا ہے اور اس ادارے سے جُڑے اقلیتی برادری کی تعظیم کو مقدم رکھتے ہوئے ان کے جذبات کے مطابق کالج کو اپنے اصلی حالت بحال کیا ہے، ان خیالات کا اظہار وزیراعلٰی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔ ان کے مطابق ادارہ کچھ عرصہ قبل انتظامی امور میں کچھ مصنوعی طور پر جنم لینے والے مسائل کا شکار رہا ہے جس کی بنیاد پر پشاور ہائی کورٹ میں ادارے کے بورڈ آف گورنر کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر کورٹ نے نے اپنے تفصیلی فیصلے میں گورنر کے زیر نگرانی بورڈ آف گورنر کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ فیصلے کے مطابق محکمہ اعلٰی تعلیم نے گورنر خیبرپختونخوا سے درخواست کی کہ ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنر کی میٹنگ بُلاکر لاہور ڈائیوسز کو میٹنگ مدعو کرکے تمام تر مسائل کو حل کیا جائے۔ لیکن لاہور ڈائیوسز نے متعلقہ میٹنگ میں شرکت سے معذرت کرلی۔ لیکن کالج کی عزم رفتہ بحال کرنے کے لیے حکومت پر عزم ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر نیک نیتی کی بنیاد کالج کے تمام ایشوز حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے اساتذہ کرام کی کمی پورا کرنے، نئے کالجز بنانے اور سٹاف کی کمی پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ کسی بھی کالج، علاقے یا کمیونٹی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جا رہا۔