وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمو دخان نے صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے محکمہ سیاحت کے تحت جاری منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے اور ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی آسان رسائی کو یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے ۔صوبے میں سیاحت کی بطور صنعت ترقی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور صوبے کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ۔
وہ جمعرات کے روز محکمہ سیاحت کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی، سیکرٹری سیاحت محمد عابد مجید اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کی آﺅٹ سورسنگ ، انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز ، پی ایس ڈی پی پراجیکٹس، سیاحتی مقامات تک رسائی سڑکوں کی تعمیرکے منصوبوں کے علاوہ دیگر جاری اور نئے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلا س کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ سیاحت و کھیل و اُمور نوجوانان کی طرف سے گزشتہ مالی سال کے دوران جاری فنڈز کی سو فیصد یوٹیلائزیشن یقینی بنائی گئی ہے۔ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں محکمہ کے 18 منظور شدہ منصوبوں کیلئے 2916 ملین روپے مختص کئے گئے ہیںجس میں سے اب تک 910 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں 168 سرکاری ریسٹ ہاﺅسز میں سے 128 ریسٹ ہاﺅسز آﺅٹ سورسنگ کیلئے آئندہ ماہ دوبارہ مشتہر کئے جارہے ہیں۔ نتھیاگلی کے پانچ ریسٹ ہاﺅسز کی محکمہ سیاحت کو منتقلی کا اعلامیہ جاری ہو چکا ہے ۔ انٹگرٹیڈ ٹوارزم زونز کی ترقی کے پروگرام کے تحت مانسہرہ، ایبٹ آباد، لوئر چترال اور سوات کے تحت چار زون کے قیام کی منظوری ہو چکی ہے ۔یہ منصوبے آئندہ جون تک اجراءکیلئے مکمل طور پر تیار ہوں گے ۔ اس کے علاوہ آٹھ نئے انٹگرٹیڈ ٹوارزم زون کیلئے متعلقہ سائٹس کا ابتدائی سروے کرلیا گیا ہے اور منصوبے منظوری کیلئے جلد متعلقہ فورم کو پیش کئے جائیں گے ۔