وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کو ترقی کے میدان میں آگے لے جانے کے لیے سی پیک منصوبے کو ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت رشکئی اکنامک زون کا فلیگ شپ منصوبہ افتتاح کیلئے تیار ہے اور وزیراعظم عمران خان خود اس اہم منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ صوبائی حکومتوں کی کوششوں سے موٹر ویز کے تین اور توانائی کے دو اہم منصوبے سی پیک میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس طرح کے مزید اہم ترقیاتی منصوبوں کو سی پیک میں شامل کروانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کیلئے معاملہ جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں زیر بحث آ چکا ہے اور اُمید ہے کہ یہ اہم منصوبہ جے سی سی کے اگلے اجلاس میں سی پیک میں شامل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز نجی ہوٹل میں منعقدہ سی پیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جن کا اہتمام پارلیمنٹ کی پارلیمانی کمیٹی نے خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے تعاون سے کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے سی آر بی سی منصوبے کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ منصوبہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے، منصوبے کی تکمیل سے نا صرف ہزاروں ایکڑ اراضی زیر کاشت آئے گی بلکہ علاقے میں سبز انقلاب آئے گا۔ انہوں نے سی پیک میں مزید منصوبے شامل کرنے کے حوالے سے کہا کہ ڈی آئی خان میں موجود اراضی کو بھی سی پیک میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس سے علاقے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ رشکئی اکنامک زون کا قیام ترقی کی جانب پہلا قدم ہے جس سے نا صرف عوام کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ تجارت کو بھی فروغ ملے گا اور آنے والے وقتوں میں صوبہ تجارتی مرکز بنے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات موٹروے فیز ٹو ، ڈی آئی خان موٹر وے اور دیر ایکسپریس وے کی تعمیر کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا جس سے سفری سہولیات کے علاو¿ہ انفراسٹرکچر بنے گا اور صوبے کے تمام حصے ایک دوسرے سے لنک رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے حوالے سے کہا کہ عالمی بینک کے تعاون سے خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے قیام پر کام جاری ہے جس سے صنعت و تجارت سمیت دیگر شعبوں کو ترقی ملے گی۔