خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران محکمہ اوقاف و اقلیتی امورکے تحت عوام کی بہتر ی کے لئے موثر منصوبہ بندی کے تحت دور س اقدامات اٹھائے ہیں جن کے تحت وقف املاک میں 40 فیصد اور کمرشل جائیداد وں سے 12127 ملین روپے آمدن میں اضافہ ہوا جبکہ زرعی اراضی کی مد میں 4 ملین روپے کی بچت ہوئی ہے۔ اسی طرح اقلیتی امور کی شعبہ کے تحت اقلیتوں کے لئے انڈومنٹ فنڈ ز کامیکنزم تیار کرنے کی منظوری کے ساتھ ضم شدہ اضلاع میں اقلیتی برادری کے لئے رہائشی کالونی کا قیام، اقلیتی نوجوانوں کے لئے ایکسچینج پروگرام اور دیگر فلاحی منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونین خصوصی برائے اوقاف اور اقلیتی امور محمد ظہور شاکر اور وزیر زادہ نے محکموں کی دو سالہ کار کردگی کے حوالے سے اطلاع سل پشاور میں مشترکہ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اوقاف و اقلیتی امور شاہد سہیل، ایڈیشنل سیکرٹری جہانزیب، ایڈ منسٹریٹر اوقاف جمال الدین سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ میڈیا کو محکمہ اوقاف و مذہبی اور اقلیتی امور کے حوالے سے محمد ظہور شاکر اور وزیر زادہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وقف املاک کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے پہلے فیز میں صوبے کی تمام وقف املاک کی جی پی ایس پوزیشن معلوم کی گئی ہیں جبکہ پانچ ہزار کنال وقف جائیدادوں کو قابضین سے واگزار کرایا گیا اور چار ہزار کنال اراضی کی کرایہ داری کا معاہدہ کیا گیا جبکہ بقایا زمین کی شفاف نیلامی کی پیش کش کی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ 1400 کنال اراضی مختلف سرکاری محکموں کے پاس ہے جن کے ساتھ مسائل کے حل کیلئے بات چیت جاری ہے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ادوار میں محکمہ اوقاف کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں اپنائی گئی تاہم موجودہ حکومت نے اب محکمہ میں منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم تیار کیا ہے جس سے محکمہ کے ملازمین کا ڈیٹا بیس اور جائیداد وں کی اجارہ داری کے لئے کمپیوٹر نظام متعارف کرا دیا گیا ہے اسی طرح املاک کی نشاندہی اور محکمہ کے فیلڈ اہلکاروں کو بااختیار بنانے کے لیے اوقاف فورس کا قیام عمل میں لایا گیا انہوں نے کہا کہ صوبے میں رویت ہلال کمیٹی کو فعال بنانے پر غور وخوص جاری ہے اور پہلے صوبائی سطح پر سیرت النبی کانفرنس کا انعقاد ہوتا تھا