وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے محکمہ خوراک میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد صرف اور صرف کرسی کے حصول کے لئے ہے۔ جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ مختلف نظریوں کے افراد کی سوچ کبھی بھی ایک متفقہ ایجنڈے پر متفق نہیں ہو سکتی۔ اپوزیشن کا شیرازہ جلد بکھر نے والا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی سوچ پاکستان کے عام آدمی کو انصاف پہنچانے کی ہے۔پاکستان کے عوام کوصحت کی بہتر سہولیات پہنچانے کی خاطر 73 سالہ تاریخ کے انقلابی منصوبے صحت کارڈ پلس کا افتتاح کردیا گیا ہے۔جس کی سالانہ لاگت 20ارب روپے ہیں۔ہر گھرانے کو سالانہ دس لاکھ روپے کے علاج معالجے کی سہولیات مہیا ہوگی۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لئے مرکزی اور صوبائی حکومتیں شبانہ روز کام کر رہی ہیں۔ سبسڈائزڈ آٹے کی وافر فراہمی سے گذشتہ ایک ماہ سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگیا ہے۔ سبسڈائزڈ آٹے کا معیار مذید بہتر بنانے کے لئے فلورملز کی موثر مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ 21 نومبر کو نوشہرہ کے عوام اپنے قائد وزیر اعظم عمران خان کا رشکئی اکنامک زون کے افتتاح کے موقع پر فقیدالمثال استقبال کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل پبی میں ورکرز کے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے توانائی ڈاکٹر عمران خٹک، ممبرصوبائی اسمبلی ادریس خٹک اور اسحاق خٹک نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر تحصیل پبی کی سطح پر یونین کونسل سطح پر انتظامی کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی جو پروگرام کے لئے انتظامات کریگی۔ مشیر خوراک میاں خلیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کردیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے عدالتوں کا سامنا کرنے کی بجائے مختلف طریقوں سے اپنے کی گئی کرپشن پر این آر او لینے کے لئے حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے۔ مگر عوام ان کرپٹ مافیا کو جان چکے ہیں۔