وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے قائم “وزیر اعلیٰ خپل کمپلینٹ سیل ” کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بذریعہ لائیو کالز عوامی شکایات سنیں اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔وزیر اعلیٰ نے کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے شہری کی شکایت پر کے ڈی اے پولیس اسٹیشن کے عملے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن عملے کے خلاف انکوائری کا بھی حکم دیا۔ قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے شہری کی شکایت پر انہیں زمین کے معاوضے کی رقم فوری ادا کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایت بھی کی۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کو کمپلینٹ سیل حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر سے شکایات سیل کو اب تک تقریباً چھ ہزار کالز موصول ہوئی ہیں جبکہ ضم شدہ اضلاع سے اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد کالز موصول ہوئی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ شکایات سیل میں اب تک تقریباً بارہ سو شکایات درج ہوئی ہیں جبکہ درج شدہ شکایات میں سے 800 کے قریب شکایات کا ازالہ کرلیا گیا ہے ، ڈیڑھ سو کے قریب شکایات کے ازالے پر کام جاری ہے۔ عوامی شکایات کے ازالے کی مجموعی شرح 88 فیصد ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خپل شکایات سیل کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شکایات کے ازالے کی شرح کو مزید بہتر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خپل شکایات سیل پرائم منسٹر پورٹل اور پرفارمنس منیجمنٹ یونٹ سیل کےساتھ منسلک ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تجاویز کی روشنی میں کمپلینٹ سیل کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ وہ خود ہر مہینے میں شکایات سیل کا دورہ کرکے عوامی شکایات سنیں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراءبھی باقاعدگی سے باری باری شکایات سیل میں عوامی مسائل سنیں گے تاکہ سرکاری محکموں اور عوام کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہو اور ان کے مسائل کو فوری حل کیا جائے۔ شہریوں نے شکایات کے ازالے کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا۔