وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے پسماندہ اضلاع کی ترقی کو اپنی حکومت کی ترجیحات کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس مقصد کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خوازہ خیلہ بشام روڈ منصوبہ کو سی پیک میں شامل کرنے کے لئے جوائنٹ کواپریشن کمیٹی کے آنے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس سڑک کی تعمیر سے علاقے میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم ہونگے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خوازہ خیلہ بشام سڑک منصوبہ ابھی تک سی پیک میں شامل نہیں کیا گیا بعض عناصر اس حوالے سے بے بنیاد دعوے کرکے عوام کو دھوکہ دینے اور سیاسی کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلی دفعہ موجودہ حکومت اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے اسے دسویں جے سی سی اجلاس میں پیش کر رہی ہے اور انشاءاللہ موجودہ حکومتوں کی کوششوں سے یہ منصوبہ سی پیک میں شامل کر لیا جائیگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے شانگلہ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی کی قیادت میں وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ان سے ملاقات کی اور ضلع شانگلہ کے لوگوں کو درپیش مسائل کے علاوہ مقامی صحافیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اضلاع کی سطح پر لوگوں کے مسائل کو صوبائی اور قومی سطح پر اجاگر کرنے میں مقامی صحافیوں اور پریس کلبوں کے کردار کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اضلاع کی سطح پر پریس کلبوں کی تعمیر و ترقی اور مقامی صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے شانگلہ پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے نئے کابینہ سے حلف لیا۔ نو منتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شانگلہ پریس کلب کے نو منتخب عہدیدار علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے، اعلیٰ صحافتی اقدار کو فروغ دینے اور علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنی بہترین قائدانہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے شانگلہ پریس کلب کے تمام جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل۔کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔