خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے عوام کو صحت سے متعلق علاج و معالجہ کی بہتر ین سہولیات فراہم کرنے پر خطیر رقوم خرچ کر رہی ہے اور پرائمری اور ضلعی سطح پر صحت کی جدید اور اعلی معیار کی سہولیات پہنچانے کے لئے ٹھو س اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے شہر کے ہسپتالوں میں بھی رش کم ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سر طان کے حوالے سے آگاہی سیشن سے بحیثیت مہمان خصو صی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس مو قع پر دیگر مقررین اور شرکاء نے بھی خطاب کیا اور سرطان جیسے موذی مرض کے بارے میں آگاہی پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ عوام اگر اس موذی مرض کا بروقت اور صحیح طریقے سے علاج کریں تو یہ مرض لاعلاج نہیں اس کو شکست دی جاسکتی ہے جب کہ اس سلسلے میں موجودہ حکومت پبلک اور پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی مفت علاج فراہم کر رہی ہے اور اب تک 6358 رجسٹر مریض ہیں۔ اس کے علاوہ دور افتادہ علاقوں میں وہاں کے ڈاکٹروں کو اس مرض سے متعلق خصوصی ٹریننگ دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے حوالے سے سنجیدہ کوشش کر رہی ہے اور سرطان جیسے موذی مرض کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کررہی ہے اور اس سلسلے میں عوام کے لیے فری کیمپ کے انعقا د کے علاوہ دیگر آگاہی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موذی مرض کے خلاف صوبا ئی حکو مت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے مل کر کام کر رہی ہے جو قابل تعریف ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ حیات آبا د میڈیکل کمپلکس کے طبی عملے نے کوڈ19 میں بھی خد مات سر انجام دی ہیں اگر چہ کوڈ 19 میں او پی ڈی بند تھی تاہم کینسر کے مریضو ں کا علاج جاری رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کلینک سینے کے سرطان کی روک تھام اور علاج کیلئے بہترین اور شفاف انداز میں کام کر رہاہے جس کی بدولت کئی مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔