ترجمان خیبرپختونخوا حکومت و معاون اعلیٰ تعلیم کامران بنگش اور وزیر قانون سلطان محمد نے یونیورسٹیز میں تقرری اور نئی بھرتی کے عمل سے متعلق کمیٹی روم ہائیر ایجوکیشن سول سیکرٹریٹ پشاور میں منگل کے روز خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔

اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے سلسلے میں جامعات، اساتذہ اور طلبہ کو تمام سہولیات دینے کی غرض سے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے کیونکہ جامعات سے ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے جتنی مضبوط جامعات ہوں گی اتنی زیادہ اس کے بہترین ثمرات سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو مکمل طور پر با اختیار بنایا گیا ہے جامعہ کے لیول پر جامعہ انتظامیہ ہی سب کچھ اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

معاون خصوصی کامران بنگش نے عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے دور میں ان تمام جامعات پر توجہ دی گئی جہاں اقربا پروری کی بنیاد پر لوگوں کو بٹھایا گیا تھا جبکہ ہماری حکومت نے میرٹ کو فالو کرتے ہوئے بہترین اصلاحات کا عمل جاری رکھا اسی لیے آج ہماری جامعات دنیا کے بہترین جامعات کی لسٹ میں جگہ بنا رہی ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ میرٹ سے کوئی چیز بڑھ کر نہیں اور میرٹ کے ذریعے منزل کا حصول ہمارا ہدف ہے۔ وزیر قانون سلطان محمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے صوبائی حکومت اصلاحات اور قانون سازی کے عمل پر یقین رکھتی ہے جہاں کہیں کوئی قانونی سقم ہے یا اصلاحات کی ضرورت ہے تو تمام سٹیک ہولڈرز کو لے کر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم دیگر بین الاقوامی ممالک کی سطح پر لانے کے لیے وفاقی حکومت نے قابل ذکر کام کیا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے قانون سازی سمیت تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ترقیاتی و اصلاحاتی منصوبوں کے متعلق وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے بھی واضح ہدایات ہیں تاکہ صوبے میں تعلیمی، تحقیقی و تنقیدی ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔