وزیراعلی کے مشیر برائے محکمہ خوارک میاں خلیق الرحمان نے کہا ہے کہ سبسیڈائزڈ آٹے کی ملز سے سپلائر اور عوام تک پہنچنے تک کے عمل کو مسلسل مانیٹر کرنے کے لئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی اشتراک سے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے رہے ہیں، جس کے لئے طریقہ کار کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مشیر محکمہ خوراک نےسرکاری آٹے کی ویلج کونسل سطح پر فراہمی کی منظوری بھی دیدی ہے ۔ ان فیصلوں کی منظوری مشیر برائے محکمہ خوراک میاں خلیق الرحمان نے محکمہ خوراک کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کئے ہیں۔ پشاور ڈویژن کی سطح پر عوام کو سبسڈائزڈ آٹے کی فراہمی یقینی بنانے اور عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ اجلاس میں سیکریٹری خوراک خوشحال خان ،ڈی سی پشاور،ڈی سی نوشہرہ ڈی سی چارسدہ اور ڈی ایف سی نوشہرہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشاور ڈویژن کے انتظامی افسران نے سرکاری آٹے کی سپلائی اور طریقہ کار کے حوالے سے اپنے اضلاع کے بارے میں تفصیلات پیش کی۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ فلور ملز سے سرکاری آٹے کی مارکیٹ میں دستیابی کے لئے موثر مانیٹرنگ سسٹم فعال کیا جائیگا جس میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک مل کر حکمت عملی وضع کریں گے، جبکہ سرکاری آٹے تک عوام کی رسائی یقینی بنانے کے لئے ایکشن پلان وضع کردیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری آٹے کی ویلج کونسل سطح پر تقسیم کی جائیگی۔ اس طرح ضلعی انتظامیہ اس کی مکمل اور بروقت نگرانی کریگی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ طریقہ کار پشاور ،نوشہرہ اور چارسدہ میں تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا جائیگا۔