وزیراعلٰی محمود خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم نے اتوار کو ایٹا کے زیرانتظام صوبے کے انجینئیرنگ یونیورسٹیوں میں داخلوں کیلئے منعقدہ ٹیسٹ کے پشاور سنٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے طلبا و طالبات کیلئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا اور ایٹا حکام سے ٹیسٹ کے دیگر مراکز بارے بریفنگ لی۔ ٹیسٹ مرکز سے باہر اپنے دورے کے موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس بار سات ہزار طلبا و طالبات انجینیرئنگ میں داخلوں کے خواہشمند ہیں جس میں سترہ سو بہترین طلبا صوبے کے انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلوں کے مستحق ہونگے۔ اعلٰی تعلیم سیکرٹریٹ کا پورا عملہ مختلف ٹیسٹ مراکز کے دوروں پر ہیں تاکہ بہترین انتظامی امور کی انجام دہی یقینی ہو۔
کامران بنگش کا مزید کہنا تھا کہ انٹری ٹیسٹ پشاور سمیت، ایبٹ آباد، سوات، ملاکنڈ، مردان، کوہاٹ اور ڈی آئی خان کے سنٹرز میں منعقد ہوا جہاں طلبا و طالبات کیلئے علیٰحدہ ٹیسٹ مراکز کا اہتمام کیا گیا۔الحمداللہ آج میرٹ کی بالادستی کی جانب ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ۔ نئے تعلیمی سال کیلئے داخلہ ٹیسٹ کامیابی سے منعقد ہوا، وزارت کا چارج سنھبالا تو ساری توجہ اسی ٹیسٹ کے انعقاد پر مرکوز کی۔ ٹیسٹ کے نتائج جلد سے جلد اعلان کرنے کیلئے کمپیوٹرائز نظام رائج ہے۔

میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلوں کیلئے لئے جانے والے ٹیسٹ سے متعلق معاون خصوصی کا بیان تھا کہ میڈیکل کیلئے انٹری ٹیسٹ اکتوبر کے تیسر ہفتے میں منعقد کیا جائے گا۔ جس کیلئے لگ بگ بارہ ہزار طلبا و طالبات نے رجسٹریشن کی ہے۔ تمام سنٹرز میں طلبا کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئی تھیں او دیگر ٹیسٹوں میں بھی فراہم کرینگے۔ ایٹا کو صوبے کی مثالی ٹیسٹنگ ایجنسی بنائینگے اور انشااللہ تمام اداروں کی بھرتیاں اور یونیورسٹیوں کے داخلہ ٹیسٹ بھی اسی ادارے کے زریعے ہونگے۔