وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر کی قیادت میں وفد نے جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ کنٹری ڈائریکٹر ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) اینا بیل گیری ، برٹش ہائی کمیشن سیکنڈ پولیٹیکل سیکرٹری کیتھرین تھامس بھی ہائی کمشنر کے ہمراہ تھے۔ وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے ہائی کمشنر سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی کے لئے انکی حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اورصحت کے شعبوں میں شراکت داری اور تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے مختلف شعبوں میں تعاون کو سراہا اور کہا کہ ہماری حکومت اس تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے حکومت کی کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کو سراہا اور برطانوی حکومت کی طرف سے تعلیم خصوصاً تعلیم نسواں ، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کی پیشکش کی۔ ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ یہ تعاون صوبائی حکومت کی استعداد کار بڑھانے پر مرکوز ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کو بتایا کہ صوبے میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں۔ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے بھی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ سیاحوں کی سیاحتی مقامات تک آسان رسائی یقینی بنانے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام شروع ہے جن میں سوات موٹروے کا فیز II بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آخر میں وزیر اعلیٰ نے برطانوی ہائی کمشنر کو سوینئر اور روایتی قالین پیش کی۔