وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر مشیر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش نے قبائلی اضلاع میں ایک سو اٹھاون ملین روپے کی لاگت سے تین نئے منصوبوں کی منظوری دے دی۔ ان منصوبوں میں طلباء کے لئے لیے ارلی ایچ پروگرامنگ، آئی ٹی تعلیم، ڈیجیٹل سکیلز اور ہر قبائلی ضلع میں سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز کا قیام شامل ہے۔ وزیراعلی خیبر پختونخواہ کا یہ قبائلی عوام کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے اس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور ان اضلاع میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ ملے گا۔ مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش نے آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کمپنیوں کو آئی ٹی بورڈ کے ساتھ رجسٹریشن کی منظوری بھی دی۔ آئی ٹی بورڈ کے ساتھ رجسٹر ہونے والی کمپنیوں کو صوبائی حکومت کی طرف سے تمام تر سہولیات فراہم کی جائے گی۔ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی منسٹری آئی ٹی کمپنیوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بزنس کے لئے رہنمائی کرے گی۔ مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ۔ صوبے میں آئی ٹی سیکٹر میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے، ہم آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں کو گائیڈ لائن فراہم کر رہے ہیں۔ محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جاری اور نئی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی غرض سے ہر مہینے سٹاک ٹیک کا اجلاس منعقد ہوگا۔  ہر افسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مطلوبہ وقت میں اپنی اہداف حاصل کرے تاخیر کی صورت میں کاروائی ہوگی۔ عوامی مفاد میں شروع کردہ منصوبے بروقت مکمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، تمام منصوبوں کی پراگرس رپورٹ پندرہ دنوں کے اندر اندر پیش کی جائے۔ تعلیم، طب، زراعت اور دیگر محکموں میں سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبے جاری ہے۔