وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کو مزید مضبوط بنانے اور اس کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس مقصد کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس ادارے کو ٹیسٹنگ کی بڑھتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے اُنہوں نے کہاہے کہ ایٹا صوبائی حکومت کا پر اعتماد اور ذمہ دار ٹیسٹنگ ادارہ ہے ، جو تیز رفتار اور شفاف ٹیسٹنگ اور ایوالویشن میں اہم کردار ادا کررہا ہے ۔اُنہوںنے ایٹا کے ذریعے مختلف صوبائی محکموں میں بھرتیوں کا عمل تیز تر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت ایٹا کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے گزشتہ روز پشاور میں ایٹا کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم خلیق الرحمن ، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم حسن یوسفزئی، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایٹا اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو ایٹا کے سٹرکچر ، ذمہ داریوں ، اصلاحات ، کارکردگی ، مسائل اور دیگر اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایٹا پاکستان بھر میں پہلی سرکاری ٹیسٹنگ ایجنسی ہے جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں بورڈ آف گورنرز کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کر رہی ہے ۔ میڈیکل / ڈینٹل کالجز ، انجینئرنگ کیلئے ٹیسٹوں کا انعقاد ، تعلیمی اداروں کیلئے ایڈمیشن ٹیسٹوں کا انعقاد ، محکمہ پولیس خیبرپختونخواکے ملازمین کیلئے پرو موشنل امتحانات کا انعقاد ، مختلف سرکاری محکموں کیلئے سٹاف کی بھرتی سمیت سکالر شپ ٹیسٹوں کا انعقاد وغیرہ ایٹا کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ پیشہ وارانہ کالجز کیلئے انٹری ٹیسٹوں کی فیس کا تعین بورڈ آف گورنرز کے ذریعے کیا جا تا ہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 2019 کے دوران انجینئرنگ کیلئے 11500 جبکہ میڈیکل کالجز کیلئے 45000 اُمیدواروں کے انٹری ٹیسٹ منعقد کئے گئے ۔ اس کے علاوہ سال 2019 میں 28 صوبائی محکموں میں 5861 آسامیوں پر بھرتی کیلئے 3 لاکھ کے قریب اُمیدواروں کے ٹیسٹ لئے گئے ۔ اسی طرح مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ کیلئے بھی 9 ہزار سے زائد ایڈمیشن ٹیسٹوں کا انعقاد عمل میں لایاگیا ہے ۔ رواں سال یعنی 2020 ءکے دوران 20 صوبائی محکموں میں مختلف خالی آسامیوں پر بھرتی کیلئے مزید 56000 سے زائداُمیدواروں کیلئے ٹیسٹوں کا انعقاد عمل میں لایا جا ئے گا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایٹا کے تحت ٹیسٹوں کے انعقاد کیلئے انڈور انتظامات کئے گئے ہیںجبکہ اس سے قبل یہ سہولت موجود نہ تھی ۔ کورونا کی حالیہ وباءکی وجہ سے صوبائی محکموں میں بھرتیوں کیلئے ٹیسٹوں کے انعقاد کا عمل متاثر ہوا ہے تاہم صوبائی حکومت کی باضابطہ اجازت کے بعد ٹیسٹوں کے انعقاد کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گاجوچار ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ ایٹا کے بورڈ آف گورنرز میں مستقل اراکین کے اضافہ اور ایٹا کو بطور اتھارٹی ڈکلیئر کرنے کیلئے ایٹا آرڈنینس 2001 ءمیں ضروری ترامیم پر کام جاری ہے جبکہ ایٹا کو باضابطہ طور پر صوبائی حکومت کی واحد ٹیسٹنگ ایجنسی قرار دینے کیلئے نوٹیفیکیشن کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایٹا کو ٹیسٹوں کے انعقاد کیلئے متعلقہ محکموں/اداروں کی طرف سے مناسب مقامات کی فراہمی سمیت دیگر مسائل حل کرنے کےلئے تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایٹا کو ایک مضبوط ٹیسٹنگ ایجنسی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اُنہوںنے ہدایت کی کہ ایٹا کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور اس مقصد کیلئے ایٹا کی تنظیم نو پربلا تاخیر کام شروع کیا جائے ۔ صوبے میں شفاف ، غیر جانبدار اور تیز رفتار ٹیسٹوں کے انعقاد اور بھرتیوں کے سلسلے میں ایٹا کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔