وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بدھ کے روز صوبے میں انسداد پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کیا ۔ تین روزہ اس مہم کے تحت صوبے کے اکیس حساس اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 45لاکھ 62ہزار بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ایک بچے کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلاکر مہم کا اجراءکیا۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، سیکرٹری صحت امتیاز حسین شاہ، ڈائیریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر نیاز،کورآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر انسداد پولیو خیبرپختونخوا عبدالباسط ، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وباءکے باعث انسداد 4 ماہ کے تعطل کے بعد انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغازکیا گیا ہے۔ اس موقع پر اپنے گفتگو میں صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کےلئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ اس مقصد کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جاسکے۔ ماہ اگست کی اس انسداد پولیو مہم کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی 19 ہزار 87 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 17 ہزار 859 موبائل ٹیمیں اور ایک ہزار237 فکسڈٹیمیں شامل ہیں۔ پولیو مہم کے معیار کو بہترین بنانے اور مہم کے دوران لاجسٹک اور آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کیلئے 4 ہزار 909 ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں انسداد پولیو مہم کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خطرات کو کم سے کم کرنے کیلئے آپریشنل حکمت عملی میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے اور پولیو ٹیموں کو سرجیکل ماسک اور ہینڈ سینٹائزر سمیت تمام ضروری حفاظتی اشیاءفراہم کی گئی ہیں۔اسی طرح پولیو ٹیموں کے ارکان کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سپروائزروں کو تھرمل گنیں مہیا کی گئی ہیں جو صبح ویکسنیشن پر روانگی سے قبل پولیو ورکرز کاٹمپر یچر چیک کریں گے اور ٹیموں کو بھجوانے سے قبل ان میں نزلہ، گلے کی خراش ، معدے کی خرابی جیسی ممکنہ علامات کا اندازہ لگائیں گے ۔