وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لےں اور کشمیر ی عوام کو ان کی خواہش کے مطابق جینے کا حق دلوائیں۔ نریندر مودی نے 5اگست 2019کو بھارتی آئین میں شامل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370)کا خاتمہ کرکے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی نئی داستان کا آغاز کیا ہے، جس نے پوری دنیا میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ۔ ہم بھارت کے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے منعقدہ ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی میں صوبائی وزراء، وزیر اعلیٰ کے معاونین خصوصی، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی خیبرپختونخوا و دیگر سرکاری حکام سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں،فاشسٹ بھارت نے اس عرصہ کے دوران کشمیری عوام کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کیلئے ظلم و ستم کی انتہاءکی ہے، خصوصی طور پر ایک سال قبل 5اگست کومقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل۔370) کا خاتمہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم و استبداد کا ایک اور سیاح باب ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم کشمیری عوام پر ظلم و تشدد کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور ا±ن کے حق خودارادیت کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ہمارے کشمیری بہن بھائی مشکل کی اس گھڑی میں اپنے آپ کو اکیلا نا سمجھیں ہر پاکستانی شہری ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر فورم پر کشمیری عوام کے لیے آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو گزشتہ ایک سال سے بھارت کی طرف سے بد ترین ریاستی دہشت گردی اور سخت ترین لاک ڈاو¿ن کا سامنا ہے جو بھارتی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نہتے کشمیری عوام بھارتی ظلم کے سامنے سینہ سپر ہیں ان کے جذبات زندہ اور حوصلے بلند ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔