چیئرمین کمیٹی ساجد خان مہمند کی زیر صدارت مہمند حاصہ دار فورسز کی پولیس میں انضمام اور انکی کیرئیر کی منصوبہ بندی کے حوا لے سیفران کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اجلاس کا انعقاد بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں کیا گیا۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی صالح محمد،گل ظفرخان،محمد اقبال خان،عبدالشکور شاد،عالیہ ہمزہ ملک،ساجد خان توری، علی وزیر کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز،ائی جی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی،سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔آئی جی اورسیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو تفصیلی بریفننگ دی۔ کمیٹی کو بریفننگ دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ خان نے اجلاس کو بتایا کہ خاصہ دار فورس کی انضمام خاصہ دار فورس ایکٹ۔2019 کے تحت کیا گیا ہے. سیکرٹری داخلہ کا مذید کہنا تھا کہ عوضی/سبسٹیٹیوٹ خاصہ فورس کی پولیس میں انضمام کے لئے کے پی ترامیم آرڈیننس۔2020 کی گئی جس کے تحت ضلع مہمند میں تقریبا 992 عوضی جانچ پڑتال کمیٹی کی سفارشات پر پولیس میں ضم کئے گئے۔ اکرام اللہ خان نے کمیٹی کو کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں تقریبا 28 ھزار خاصہ دار فورسز اھلکار کی انضمام قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کر رہے ہیں اور جہاں پر کوئی غلطی ہوئی ہے نشاندھی پر اسکو ٹھیک بھی کر رہے ہیں۔ سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ کسی کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دیںگے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیفران اسٹینڈنگ کمیٹی مذید بہتری کے لئے اگلے اجلاس میں سفارشات پیش کریں گی۔ چیئرمین سیفران اسٹینڈنگ کمیٹی نے اجلاس کو بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جارہا ہے ساجد خان نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے اور تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت ضم آضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔