صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر فلور ملز ایسوسی ایشن کے وہ مطالبات جن پر نظر ثانی کی ضرورت تھی اور محکمہ کے حد تک قابل حل تھے، ان کو عوام کی بہتر مفاد اور شہریوں کو سستا آٹا وافر مقدار میں فراہم کرنے کی خاطر تسلیم کئے گئے ہیں، تاہم محکمے کی طرف سے طے کردہ شرائط پر عملدرآمد نہ کرنے پر تسلیم شدہ مطالبات پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز خیبرپختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اقبال خان کی قیادت میں ایک وفد سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا ہے۔ ملاقات کے دوران سیکرٹری محکمہ خوراک خوشحال خان اور ڈائریکٹر محکمہ خوراک زبیر احمد بھی موجود تھے۔ ملاقات میں فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے صوبے میں بغیر تحریری نوٹس کے ہڑتال اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں غیر پارلیمانی رویہ پر ایسوسیشن کے عہدیداران نے معذرت کی جبکہ ہڑتال کو فوری طور پر ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ قلندر خان لودھی نے کہا ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن نے صوبے میں ہڑتال کو ختم کر دیا ہے اور سرکاری کوٹہ اٹھانے پر راضی ہو گئے ہیں۔ ملاقات میں وزیر خوراک نے کہا ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا ایسا مطالبہ جو محکمہ خوراک کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، کو متعلقہ فورم پر بھیجا جائےگا۔ وزیر خوراک کا کہنا تھا کہ عوام کو سستے آٹےکی وافر مقدار میں فراہمی محکمے کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں عوام کو ریلیف دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے۔