وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ کورونا صورتحال کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح سیاحت کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہے۔ سیاحت کے شعبے کی بندش کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات کا حکومت کو بخوبی احساس ہے لیکن حکومت جو بھی اقدامات اٹھا رہی ہے وہ صرف لوگوں کے جانوں کے تحفظ کے لئے ہیں کیونکہ لوگوں کی صحت اور ان کے جانوں کا تحفظ ہمارے لئے سب سے مقدم ہے۔ صوبائی حکومت کے بروقت اور موثر اقدامات کی وجہ سے صوبے میں کورونا کیسز میں نمایاں کمی آرہی ہے ۔ عیدالاضحی کے بعد سیاحت کے شعبے کو کھولنے کے لئے وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل کوارڈینیشن کونسل کے اجلاس میں مشاورت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔
وہ پیر کے روزپشاور میں منعقدہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اجلاس میں شرکت کے بعد وفاقی وزیر اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ صوبے میں کورونا کیسز میں نمایا کمی آرہی ہے اور حالات دن بدن بہتر ہوتے جارہے ہیں تاہم عید الاضحی کے موقع پر اس وبا کے پھیلاو¿ کے بہت زیادہ امکانات ہیں لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس عید کے موقع پر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ عید سادگی سے اپنے گھروں میں منائیں۔ اپنے گھروں اور دیگر مقامات پررش لگانے اور سیاحتی مقامات کی طرف جانے سے گریز کریں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس عید کے موقع پر کورونا وبا سے شہید ہونے والے طبی عملے سمیت دیگر فرنٹ لائن ورکرز اور عام لوگوں کو خصوصی طور پر یاد کرتے ہوئے عید سادگی سے منائیں اور اپنے ارد گرد نادار اور مستحق لوگوں کو عید کی خوشیوں میں ضرور شامل کریں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خود انہوں نے عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے کابینہ ممبران کو بھی عید سادگی کے ساتھ منانے کی ہدایت کی ہے۔ عوام سے بھی گزارش ہے کہ وہ عید سادگی سے منائیں ، عید کی نماز اور قربانی کے لئے جاری کردہ حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں تاکہ عید کے موقع پر کورونا وبا کے متوقع پھیلاو¿ کا تدارک کیا جاسکے۔