وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کے حکام کو ہدایت کی کہ جیل اصلاحات اور جیلوں کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے نئے لیگل فریم ورک کی تیاری پر کام جلدی مکمل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملاکنڈ اور کوہاٹ ڈویژن میں سنٹرل جیلز تعمیر کرنے کے منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کرنے جبکہ ضم شدہ اضلاع سمیت جن اضلاع میں ڈسٹرکٹ جیلز نہیں بنے وہاں پر ڈسٹرکٹ جیلز تعمیر کرنے کے منصوبوں کی منظوری کے لئے ہوم ورک تیار کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر کے جیلوں کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے ڈویژنل سطح پر ڈپٹی انسپکٹر جیل خانہ جات کی آسامیاں تخلیق کرنے جبکہ جیل خانہ جات کی ملازمتوں میں جیل ملازمین کے بچوں کے لئے دس فیصد کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری کاروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے بدھ کے روز محکمہ جیل خانہ جات سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیا ۔ اجلاس کو محکمہ جیل خانہ جات کی مجموعی کارکردگی ، جیل اصلاحات کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت ، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی صورتحال ، درپیش مسائل اور دیگر مختلف امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک صوبے کے 14 جیلوں میں قیدیوں کی تمام تر تفصیلات سمیت سارا ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جا چکا ہے جبکہ باقی جیلوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے پر کام جاری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سنٹرل جیل پشاور کی توسیع کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے جس سے جیل میں قیدی رکھنے کی گنجائش میں 2365 افراد کا اضافہ ہو گیا۔ قیدیو ں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران 27220 قیدیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ متعدی بیماریوں کے لیے 19788 قیدیوں کی اسکریننگ بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح قیدیوں کے لیے ویلفیئر فنڈز کے قیام پر کام جاری ہے ۔