وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کو موجودہ حکومت کے وژن کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ افغان ٹرانزٹ کے سلسلے میں درکار ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کررہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق جملہ اُمور کو اسٹریم لائن کرنے کیلئے صوبائی حکومت، متعلقہ وفاقی محکموں اور اداروں اور دیگر شراکت داروں کے مابین کوآرڈنیشن کے ایک موثر میکنرم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اس راہ میں حائل روکاوٹوں کو مستقل بنیادوں پر دور کرنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو مل بیٹھ کر ایک طویل المدتی لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کے روز پاک افغان پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کی قیادت میں اُن سے ملاقات کی اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ ، اس سلسلے میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے اور دیگر متعلقہ اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے درپیش تمام حائل روکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اُن کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
افغانستان کیلئے وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی صادق خان اور صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑاکے علاوہ ، انسپکٹر جنرل فرانٹیر کور، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری تجارت ، سیکرٹری خارجہ، چیئرمین ایف بی آر ، کسٹم کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ سول و عسکری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔