وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز مانسہرہ کے سیاحتی مقام شوگران کا دورہ کیا، جہاں پر اُنہوںنے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی کو آسان بنانے کیلئے تین مختلف رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جن میں 15 کلومیٹر وادی مانور روڈ، 11 کلومیٹر وادی شوگران روڈاور9 کلومیٹر وادی پابرنگ روڈ شامل ہیں۔ رابطہ سڑکوں کے ان منصوبوں پر1421 ملین روپے کی مجموعی لاگت آئے گی۔
ان منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ کورونا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح سیاحت کا شعبہ بھی بری طر ح متاثر ہوا ہے، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کی وجہ سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات کا حکومت کو بھر پور احساس ہے ، اس شعبے کو کھولنے کیلئے ایس او پیز تیار کرلی گئی ہیں اور انشاءاﷲ عید الاضحی کے فوری بعد وفاق اور دیگر صوبوں کی باہمی مشاورت سے اس شعبے کو کھول دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ صوبے میںسیاحت کے فروغ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں ملکی اور غیر ملکی سیاحت کوفروغ دے کر یہاں کے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت نتیجہ خیز اقدامات اُٹھارہی ہے ۔ صوبے میں ٹوارزم اتھارٹی کا قیام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے تحت صوبے کے سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے کیلئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ نئی سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہزارہ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2400 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ کائٹ پراجیکٹ کے تحت20 ارب روپے کی تخمینہ لاگت سے صوبے کے سیاحتی مقامات میں370 کلومیٹر لمبا روڈ انفراسٹرکچر تیار کیا جارہا ہے ۔