خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کورونا مریضوں کے لیے تمام طبی سہولیات مہیا کر کے جلد فعال بنا دیا جائے گا۔ طبی عملے کی بھرتی میں حائل روکاوٹیں دور کی جائیں۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی عمارت میں کورونا سینٹر بنانے کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکریٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ، اسپیشل سیکریٹری صحت میاں عادل اقبال، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز محمد، اے ڈی جی ڈاکٹر جمال ناصر، پاک فوج کے افسران اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر صحت حکام کی جانب سے پی آئی سی میں کورونا سینٹر کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ پاک فوج کے افسران نے این ڈی ایم اے کی جانب سے طبی آلات و سامان کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پی آئی سی میں پہلے مرحلے میں 50 بستروں کا انتظام کیا جا رہا ہے جس میں 16 بستروں کے ساتھ وینٹی لیٹر کی سہولت میسر ہو گی جبکہ 34 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ بستر ہوں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا ک اگلے ایک ہفتے میں پہلا مرحلہ مکمل کر لیا جائے گا۔ پی آئی سی کورونا سینٹر میں دیگر سہولیات اور سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے بھی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ طبی عملے کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور ان کی ٹریننگ اور اورنٹیشن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں طبی ماہرین کے زیر نگرانی کی جائے گی جو کہ آئندہ ہفتے ہی مکمل کر لی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لوکم سکیم کے تحت بھرتی طبی عملہ بھی پی آئی سی میں تعینات کیا جائے گا۔ وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ طبی عملے کی بھرتی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت عملے کی بھرتی و تعیناتی کے عمل کو تیز تر اور شفاف بنایا جائے۔ انہوں نے اس امر کو خوش آئند قرار دیا کہ کورونا کے خلاف ہماری استعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ استعداد بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے مستقبل میں دور رس نتائج حاصل ہوں گے۔