وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اُن تمام قوانین جن میں دیگر محکموں کے قوانین کے ساتھ تضادات پائے جاتے ہوں ، کا تفصیلی جائزہ لیکر ان تضادات کو دور کرنے کیے لئے ضروری ترامیم تجویز کرکے کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کریں۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو مزید ہدایت کی ہے کہ موجودہ اور سابقہ دورِ حکومت میں جتنے بھی قوانین منظور ہوئے ہیں ان کے تحت رولز کی منظوری کی صورتحال پر کابینہ کے اگلے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی جائے اور جن محکموں کے منظورشدہ قوانین کے تحت رولز ابھی تک نہیں بنے ہیں وہ محکمے جلد سے جلد ان رولز بنا کر کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کریں تاکہ ان قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کو یقنی بنا یا جاسکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اب تک کئے گئے موجودہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال سے بھی کابینہ کو اگلے اجلاس میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔
وہ پیر کے روز صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کورونا کی موجودہ صورتحال میں معاشی سرگرمیوں کے لئے نجی ہاو¿سنگ سکیم اور تعمیرات کے فروغ کو اپنی حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے مو¿ثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہاو¿سنگ کے شعبے کو فروغ دینے کےساتھ ساتھ زرعی زمینو ں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے زرعی زمینو ں کے تحفظ کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس مقصد کے لئے تمام متعلقہ محکموں کو مل بیٹھ کر ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پچھلے سال 2.10 ارب روپے کی نسبت اس سال 3.25ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے پر محکمہ معدنیات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دیگر محکموں کو بھی اس طرح کی کارکردگی دکھانی چاہئیے۔ کابینہ ممبران کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوںنے اجلاس میں شرکت کی۔
دیں اثناءکابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ترامیم کی منظوری دیدی۔ ان ترامیم کا مقصد صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے تعمیرات اور نجی ہاو¿سنگ کے شعبوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینا ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے صوبے میں نجی ہاو¿سنگ سکیم شروع کرنے کے لئے این او سی کے حصول اور بلڈنگ پلاننگ کے منظوری کے علاوہ دیگر تمام پیچیدہ مراحل کو سہل اور آسان بنادیاگیاہے تاکہ ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔ ترامیم کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں اور صارفین کے تمام حقوق کو بھی قانونی تھفظ فراہم کیا گیا ہے۔