وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہاہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال سے جنوبی اضلاع کی تقدیر بدل جائیگی۔موٹر وے پر فزیبیلٹی مکمل ہونے کے بعد کام شروع ہو جائے گا۔ ضم اضلاع کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ضم اضلاع کے تمام ترقیاتی پلان وزیراعلی محمود خان خود مانیٹر کررہے ہیں، موجودہ بجٹ میں قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجمل وزیر نے کہا کہ یہ میگا منصوبے ڈی آئی خان کے عوام کے لیے تحفہ ہیں۔ ان سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال کے حوالے سے گزشتہ دنوں بھی وزیراعلی محمود خان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اس منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجمل وزیر نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے عوام کو آسان علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔اجمل وزیر نے کہا کہ غلام خان بارڈر کو افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں کے بارے میں مشیر اطلاعات نے کہا کہ این سی او سی میں تمام تر فیصلے صوبوں کے ساتھ مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ اجمل وزیر نے کہا کہ صحت کے شعبے کو پہلی بار تحریک انصاف کے دور میں ترجیح دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ صوبائی بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 124 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صحت انصاف کارڈ کے ذریعے صحت کی سہولیات کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے خیبر پختونخوا کے عوام نے ڈٹ کر مشکل حالات کا مقابلہ کیا ہے حکومت تمام تر وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروے کار لا رہی ہے۔صوبے میں نافذ سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجمل وزیر نے کہا کہ صوبے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔