وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے مینگورہ سوات سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور شاہ زمین کی فریاد سن لی اور اس کے تین بیمار بچوں کا علاج معالجہ سرکاری سطح پر کروانے کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شاہ زمین کا پندرہ سالہ بیٹا بینائی سے محروم اور ذہنی بیماری کا شکار ہے جبکہ اس کے بارہ سالہ جڑواں بچوں میں سے بیٹی ہاتھ پاوں سے معزور جبکہ بیٹا موذی مرض ہیموفیلیا میں مبتلا ہے۔ شاہ زمین معاشی مشکلات کے باعث اپنے بچوں کے علاج پر آنے والے آخراجات اٹھانے سے قاصر ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر ان بچوں سے متعلق خبر نشر ہونے کے فوری بعد وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ان بچوں کے مفت علاج معالجے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ نجی چینل کو نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان بچوں کے والد نے صوبائی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کے بچوں کا سرکاری سطح پر علاج کروایا جائے۔ بچوں کے مفت علاج معالجے کے لئے احکامات جاری کرنے پر شاہ زمین نے وزیر اعلی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کا خیال رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داری اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا اہم حصہ ہے جس کے لئے موجودہ حکومت ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ ان بچوں کے علاج معالجے کے سلسلے میں صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کر گی۔