وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیراطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے تہکال میں شہری پر پولیس تشدد واقعے کی جوڈیشل تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے تمام تر قانونی تقاضے جلد از جلد پورے کئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی صدارت میں اس معاملے پر جمعرات کے روز اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز , انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی اور دیگر اعلی حکام شریک ہوئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ اطلاع سیل میں میڈیا کو بریفننگ دیتے ہوئے کیا ہے۔ اجمل وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نےخیبر پختونخوا ٹریبونل آف انکوائری آرڈیننس کے تحت ہائیکورٹ کے فاضل جج کی نگرانی میں تحقیقات کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات سے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس، پشاور ہائیکورٹ کی مشاورت کے بعد اسے نوٹیفائی کیا جائے گا جبکہ جوڈیشل انکوائری کے تحت تحقیقات کا عمل 15 روز میں مکمل کیا جائے گا ، جوڈیشل انکوائری میں تمام ضروری گواہان کے بیانات ریکارڈ ہونگے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ داران کا بلا امتیاز تعین کیا جائیگا اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائےگی جبکہ خیبر پختونخوا حکومت ایک ماہ کے اندر یہ رپورٹ پبلک بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شہری اور اسکے خاندان کو انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کے لیے خود تہکال کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی ہے۔ اجمل وزیر نے کہا کہ حکومت کو اس خاندان کی تکلیف کا احساس ہے جبکہ انکے ساتھ ہر فورم پر انصاف ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کل سے ایکشن لیا گیا ہے حتیٰ کہ ایس ایس پی آپریشنز کو بھی انکے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔اجمل وزیر نے کہا کہ ایس ایچ او تہکال سمیت چار اہلکار پہلے ہی معطل تھے جبکہ ان چاروں معطل اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان چند برے لوگوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت کرنا شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی یہ درندگی کا کام کیا ہے اسے ضرورسزا ملے گی۔ اجمل وزیر نے کہا ہے کہ چند اہلکاروں کی وجہ سے پوری پولیس کو کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں۔ محکمہ پولیس نے نہ صرف دہشتگردی بلکہ زلزلہ ہو,سیلاب ہو یا ابھی کرونا کا جو مسئلہ ہے پولیس فرنٹ لائن پر سب کا مقابلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولیس کو بدنام کرنےوالے اہلکاروں کے خلاف ضرورکارروائی کریگی۔