وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پولیس کی طرف سے شہری پر تشدد اور اُس کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو اپنے دفتر طلب کر کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل اور گرفتار کرکے اُن کے خلاف سخت سے سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پی کو واقعے کی صاف شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور انسانیت اور انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور متاثرہ شہری کے ساتھ پورا انصاف کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس کا کام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ،کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، مجرم کو سزا دینا عدالت کا کام ہے پولیس کا نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا پولیس ایک مثالی پولیس ہے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے خیبر پختونخوا پولیس نے قربانیوں کی ایک داستان رقم کی ہے لیکن کچھ عناصر ایسی حرکتوں سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں ایسے عناصر کی پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہو گی ۔