صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کورونا وباء کی روک تھام کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ اس ضمن میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ہو ہدایات جاری کی تھی کہ جن علاقوں میں کورونا کے کیسز موجود ہیں ان علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ جس پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے من و عن عمل کرتے ہوئے کورونا سے متاثرہ علاقوں میں فوری لاک ڈاون کا نفاذ کیا۔ تمام اضلاع سے موصول شدہ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں کل 240 متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیاہے ان تمام علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 2ہزار305 ہے اسی طرح سمارٹ لاک ڈاون کی وجہ سے 5لاکھ 37ہزار10 افراد گھروں میں محصور ہیں۔ ڈویژنل سطح کے رپورٹس کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں 137 متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔ جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 1282 ہے اور لاک ڈاون زدہ علاقوں میں 3 لاکھ 90ہزار 476 افراد گھروں میں محصور ہیں۔ بنوں ڈویژن میں 9 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔ جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 33 ہے جبکہ بنوں ڈویژن میں سمارٹ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 1685 افراد گھروں میں محصور ہیں۔ ڈی آئی خان ڈویژن میں کل 7 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیاہے۔ جس میں متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہے۔ سمارٹ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 2660 افراد گھروں میں محصور ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں 25 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔ متاثرہ افراد کی تعداد 269 ہے۔ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 90ہزار 589 افراد گھروں میں محصور ہیں۔کوہاٹ ڈویژن میں کل 15 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔متاثرہ افراد کی تعداد 164 ہے۔ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 4150 افراد گھروں میں محصور ہیں۔مردان ڈویژن میں 13 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔جس میں متاثرہ افراد کی تعداد 85 ہے۔ لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 4920 افراد گھروں میں محصورہیں۔اسی طرح پشاور ڈویژن میں 34 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔جس میں متاثرہ افراد کی تعداد 442 ہے۔لاک ڈاون زدہ علاقوں میں کل 42ہزار 530 افراد گھروں میں محصورہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے ملک بھر میں کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے سمارٹ لاک ڈاون کا فیصلہ کیا تھا جس پر صوبائی حکومتیں کام کر رہی ہیں اور وقتافوقتا رپورٹ وزیراعظم پاکستان عمران خان تمام متعلقہ وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز کو بھیجا جاتا ہے۔