صوبے کے مختلف اضلاع میں سمارٹ لاک ڈاون کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پیر کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہوا۔ جس میں صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کے ان مخصوص علاقوں جہا ں پر کورونا کے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں میں سمارٹ لاک ڈاون سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پشاور کے تمام ہاٹ سپاٹ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر تفصیلی غور و حوض کے بعد صوبائی وزیر صحت کی سربراہی میں کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور ، سی سی او پشاور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو متعلقہ منتخب عوامی نمائندوں کی باہمی مشاورت سے ایک قابل عمل پلان تیار کرے گی جسے حتمی منظوری کے لئے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔ اجلاس کو صو بے کے مختلف اضلاع کے ہاٹ سپاٹس میں سمارٹ لاک ڈاون پر عملدرآمد کی صورتحال ، کیسز کی تفصیلات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں ، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر پشاور ، سی سی پی او پشاور اور 11کور کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فی الوقت صوبے کے سات ڈویژن میں 240مخصوص مقامات میں سمارٹ لاک ڈاون نافذہے جن میں مجموعی طور پر کورونا کے د و ہزار سے زائد مثبت کیسز سامنے آئے ہیں ۔ ضلع پشاور میں سمارٹ لاک ڈاون کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت شہر کے 11مقامات کو سمارٹ لاک ڈاو¿ن کر دیا گیا ہے جن میں کورونا کے 298مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت حکومت کے سارے فیصلوں اور اقدامات کا ایک ہی مقصد لوگوں کی جانوں کو محفوظ بناناہے جس کے لئے صوبائی حکومت صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد بدلتے حالات کے مطابق اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ اس وباءکے پھیلاو کو کم سے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں جو بھی اقدامات اور فیصلے کرے گی وہ یہاں کے معروضی حالات اورزمینی حقائق کے مطابق ہو نگی۔ وزیراعلیٰ نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی سمارٹ لاک ڈاون کے حوالے سے جو بھی اقدامات لئے جائیں وہ متعلقہ منتخب عوامی نمائندوں کی مشاور ت سے لئے جائیں۔